نئی دہلی،4جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا میں آدھار ترمیمی بل پر بحث کے دوران ایم آئی ایم کے صدر اسد الدین اویسی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بھلے ہی اس بل کو ایوان سے منظور کرا لے، لیکن سپریم کورٹ کے آگے یہ بل ٹک نہیں پائے گا۔پارلیمنٹ میں بحث کے دوران اویسی نے بنیاد ترمیم بل کو حلالہ سے جوڑ دیا۔ انہوں نے کہاکہ:’ یہ حلالہ کی کلاسک مثال ہے، کیونکہ سپریم کورٹ کہہ چکا ہے کہ سرکاری ڈیٹا پرائیویٹ کمپنیوں کو نہیں دیا جا سکتا، تو حکومت اور پرائیویٹ کمپنیوں کے درمیان شادی ٹوٹ گئی ہے اور یہ حلالہ کا کلاسک کیس بن چکا ہے۔سد الدین اویسی نے مرکز پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ حکومت پرائیویٹ کمپنیوں کے اشاروں پر ناچ رہی ہے اور اسے رازداری کے تحفظ کی کوئی فکر نہیں ہے۔ بحث کے بعد لوک سبھا میں آدھار اور دیگر قانون (ترمیمی) بل 2019 پاس ہو گیا ہے۔بل کے اہم نکات:آدھارہولڈر نابالغ 18 سال کی ہونے پر اپنے آدھار نمبر منسوخ کرا سکیں گے۔بینک اکاؤنٹ، موبائل فون کنکشن کی سروس کے لیے آدھار رضاکارانہ ہوں گے، یعنی صارف کی صوابدید پر منحصر ہوگا۔ آدھار پیش نہ کرنے والے کو کسی بھی سروس سے محروم نہیں کیا جا سکتا ہے۔آدھار نمبر کے استعمال کے لئے مقرر قوانین کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت سزا ہوگی۔